Umeedain

محققین پہلی بار کسی جسم کو غائب کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم یہ تجربہ برقناطیسی شعاؤں کے پیمانے میں صرف مائیکرو ویو شعاؤں پر کامیاب رہا ہے۔

اس مقصد کے لیے ’پلاسمونک‘ مواد کی مدد سے کام لیا جاتا ہے۔ پلاسمونک مواد چھپائی جانے والی چیز کے منافی مائیکرو ویو عکس بنا دیتا ہے جس سے وہ چھپ جاتی ہیں۔

اس طریقے سے اشیاء کو بظاہر غائب کرنے کی تفصیلات نیو جرنل آف فزکس نامی جریدے میں شائع کی گئی ہیں۔

اس انکشاف کا پہلا استعمال انتہائی طاقتور خرد بینوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اشیاء کو ظاہری طور پر غائب کرنے کے تجربات نے ماضی میں بھی’میٹا مٹیریئلز‘ نامی نئی طرز کے مواد کی تشکیل پر ہی غور کیا ہے۔ یہ مواد یا ان کی خصوصیات قدرتی طور پر نہیں پائیں جاتیں۔

میٹا مٹیریئلز کا کام روشنی یا مائیکرو ویو کی شعاؤں کو اس طرح تبدیل کرنا ہے کہ جس سے معلوم ہو کہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ آئی ہی نہ ہو۔

ماضی میں کیے جانے والے تجربات میں کوشش کی جاتی رہی ہے کہ روشنی کی شعاؤں کو غائب کی جانے والی اشیاء کے گرد انتہائی پیچیدہ ڈھانچوں کی مدد سے لے جایا جائے اور دوسری طرف ان کے عکس کو واپس بنایا جائے۔ اس طرح شعاؤں کو دوسری طرف عکس بند کرنے والے آلہ یا شخص کو بیچ میں موجود چیز کا پتا نہیں چلتا۔

دوسری طرف یونیورسٹی آف ٹیکسز ایٹ آسٹن کی ایڈدریا لوع اور ان کی ساتھیوں کے تجربے میں میٹا مٹیریئلز غائب کی جانے والی اشیاء کے وجود سے شعاؤں میں آنے والی تبدیلیوں کا بلکل منافی اثر پیدا کر کے شعاؤں کو واپس ابتدائی حالت میں لے آتا ہے۔ چنانچہ دوسری طرف ان شعاؤں کو عکس بند کرنے والے آلہ یا شخص کو شعائیں ایسی حالت میں ملتی ہیں جیسے کہ درمیان میں کوئی چیز تھی ہی نہیں۔

 

0 Comments

You can be the first one to leave a comment.

Leave a Comment